KONE اور Sigma کے لفٹ پارٹس کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھ کر نہیں خریدا جانا چاہیے۔ درست سورسنگ کا آغاز لفٹ کے اصل برانڈ، کنٹرول سسٹم، پارٹ نمبر، بورڈ ریویژن اور برقی انٹرفیس کی شناخت سے ہوتا ہے۔ نام یا ظاہری شکل ملنے کے باوجود دو بورڈز کے کنیکٹر، وولٹیج، سافٹ ویئر یا کمیونیکیشن پروٹوکول مختلف ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں مینٹیننس کنٹریکٹرز، ماڈرنائزیشن کمپنیوں اور اسپیئر پارٹس خریداروں کے لیے عملی اصول یہ ہے: صرف فنکشن کے نام پر پارٹ آرڈر نہ کریں۔ پرانا پارٹ، کنٹرولر کی تفصیل، واضح لیبل تصاویر اور لفٹ کی خرابی کی معلومات اکٹھی کر کے مطابقت کی تصدیق کریں۔
KONE اور Sigma الگ پروڈکٹ فیملیز ہیں
KONE اور Sigma الگ برانڈ اور کنٹرول پلیٹ فارم ہیں۔ بعض صورتوں میں Sigma سے متعلق لفٹ سسٹمز کا تعلق KONE گروپ کے تجارتی یا علاقائی ڈھانچے سے نظر آ سکتا ہے، مگر اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہر KONE اور Sigma پارٹ باہم قابلِ استعمال ہے۔
لفٹ کنٹرول سسٹم میں برانڈ کا نام صرف ابتدائی اشارہ ہوتا ہے۔ اصل فیصلہ درج ذیل چیزیں کرتی ہیں:
- کنٹرولر یا ڈرائیو کا ماڈل
- بورڈ کا مکمل پارٹ نمبر
- ہارڈویئر ریویژن یا ورژن
- فرم ویئر یا سافٹ ویئر مطابقت
- کنیکٹر کی ترتیب اور پن آؤٹ
- سپلائی وولٹیج
- کمیونیکیشن بس یا پروٹوکول
- لفٹ کی کنفیگریشن، مثلاً سنگل کار، ڈوپلیکس یا گروپ آپریشن
مثلاً، کسی پارٹ پر “door board”، “car board” یا “power board” لکھا ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ دوسرے برانڈ، دوسرے کنٹرولر، یا اسی برانڈ کے دوسرے جنریشن سسٹم میں چل جائے گا۔ فنکشن ایک جیسا ہو سکتا ہے، مگر سگنل، آؤٹ پٹ، پروگرامنگ اور حفاظتی انٹرلاک مختلف رہتے ہیں۔
KONE Sigma پارٹس کی تلاش میں سب سے عام تجارتی غلطی یہ ہے کہ خریدار صرف برانڈ نام یا بورڈ کی تصویر سے نتیجہ نکال لیتا ہے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ برانڈ کو شناخت کا پہلا مرحلہ سمجھا جائے، آخری ثبوت نہیں۔
کمپوننٹ سے پہلے لفٹ کی شناخت کریں

پارٹ کی شناخت سے پہلے خود لفٹ اور اس کے کنٹرول سسٹم کی شناخت کریں۔ یہ ترتیب غلط آرڈر، سائٹ پر تاخیر اور غیر ضروری ریٹرن کے خطرے کو کم کرتی ہے۔
سائٹ سے درکار بنیادی معلومات
آرڈر یا سورسنگ انکوائری سے پہلے یہ معلومات ریکارڈ کریں:
- لفٹ کا برانڈ اور ماڈل، اگر دستیاب ہو۔
- کنٹرولر کیبنٹ پر موجود نام پلیٹ کی تصویر۔
- پرانے یا خراب بورڈ کی سامنے اور پیچھے سے صاف تصاویر۔
- بورڈ پر موجود ہر لیبل، بارکوڈ، پارٹ نمبر اور ریویژن۔
- لفٹ کی قسم: مسافر، مال بردار، ہسپتال، گھر یا دیگر استعمال۔
- نظام کا متعلقہ حصہ: کار، لینڈنگ، ڈور آپریٹر، ڈرائیو، پاور سپلائی یا کمیونیکیشن۔
- خرابی کی علامت یا کنٹرولر پر موجود فالٹ کوڈ۔
- لفٹ کی کنفیگریشن، مثلاً کتنے فلور، کتنے دروازے اور آیا گروپ کنٹرول موجود ہے۔
نام پلیٹ دستیاب نہ ہو تو کنٹرولر کے اندر موجود مرکزی بورڈ، ڈرائیو، پاور سپلائی اور ٹرمینلز کی واضح تصاویر مدد دیتی ہیں۔ البتہ ایسی تصاویر لیتے وقت محفوظ آئسولیشن طریقہ کار اپنانا ضروری ہے۔ توانائی موجود ہونے کی حالت میں بورڈ، کنیکٹر یا ٹرمینل کو نہ چھیڑیں۔
خراب پارٹ ہمیشہ اصل مسئلہ نہیں ہوتا
کسی بورڈ میں جلن، نمی، ڈھیلا کنیکٹر یا واضح نقصان نظر آنے پر بھی اسے فوری طور پر خراب قرار دینا کافی نہیں۔ مسئلہ پاور سپلائی، گراؤنڈنگ، دروازے کے انٹرلاک، وائرنگ، سینسر یا کمیونیکیشن لائن میں ہو سکتا ہے۔
نیا بورڈ لگانے سے پہلے یہ چیک مفید رہتے ہیں:
- مطلوبہ DC یا AC سپلائی کنٹرولر کی حد کے اندر ہے یا نہیں
- فیوز، ٹرانسفارمر، پاور بورڈ اور گراؤنڈ کنکشن درست ہیں یا نہیں
- کنیکٹر میں موڑا ہوا پن، نمی یا آکسیڈیشن تو نہیں
- ہارنس یا فلیکس کیبل کٹی، دبی یا غلط جگہ لگی ہوئی تو نہیں
- فالٹ کسی ایک فلور، ایک دروازے یا پورے سسٹم سے متعلق ہے
- پہلے سے نصب بورڈ کا ریویژن درست ریکارڈ ہوا ہے یا نہیں
یہ تشخیص خاص طور پر اس وقت اہم ہے جب ایک ہی بورڈ بار بار ناکام ہو رہا ہو۔ بنیادی برقی خرابی برقرار ہو تو متبادل بورڈ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
بورڈ کے نام اور فنکشن کا موازنہ کریں
بورڈ کا نام استعمال کے مقام کا اشارہ دے سکتا ہے، مگر نام کو تکنیکی مطابقت کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔ KONE Sigma سسٹمز میں ایک جیسے عمومی نام والے بورڈز مختلف کنٹرول فیملیز کے لیے بنے ہو سکتے ہیں۔
| بورڈ یا حصہ | عمومی کردار | سورسنگ سے پہلے ضروری تصدیق |
|---|---|---|
| مین کنٹرول بورڈ | لفٹ کی منطقی کنٹرول، سیفٹی ان پٹس اور سسٹم کوآرڈینیشن | کنٹرولر ماڈل، پارٹ نمبر، ریویژن، پروگرامنگ |
| کار کمیونیکیشن بورڈ | کار اور کنٹرولر یا کار کے ذیلی آلات کے درمیان سگنل رابطہ | بس پروٹوکول، کنیکٹر، کار کنفیگریشن، وولٹیج |
| ڈور آپریٹر بورڈ | دروازہ موٹر، سینسر، اوپن/کلوز سگنلز اور حفاظتی سرکٹس | ڈور آپریٹر ماڈل، موٹر قسم، ان پٹ/آؤٹ پٹ ترتیب |
| ڈرائیو بورڈ | موٹر ڈرائیو یا رفتار کنٹرول کے متعلق سگنلز | ڈرائیو ماڈل، موٹر ڈیٹا، انکوڈر اور وولٹیج |
| پاور بورڈ | مختلف سرکٹس کو ضروری سپلائی فراہم کرنا | ان پٹ وولٹیج، DC آؤٹ پٹس، فیوز اور لوڈ |
| لینڈنگ یا LOP بورڈ | فلور کال، انڈیکیٹر اور لینڈنگ ڈیوائسز کا رابطہ | فلور سیٹ اپ، ڈسپلے قسم، کمیونیکیشن انٹرفیس |
فنکشنل موازنے کا مقصد درست سوال پوچھنا ہے۔ مثال کے طور پر “کار بورڈ چاہیے” کافی معلومات نہیں۔ بہتر درخواست یوں ہو گی: “Sigma کار کمیونیکیشن بورڈ، موجودہ پارٹ نمبر، ریویژن، کنیکٹر تصاویر اور کنٹرولر تفصیل کے مطابق درکار ہے۔”
Sigma سسٹم کے کار سائڈ کمیونیکیشن حصے کے لیے [Sigma کار کمیونیکیشن بورڈ](/products/car-communication-board-sigma-elevator-parts/) جیسے متعلقہ پارٹ کی تفصیل تبھی مفید ہوتی ہے جب اسے موجودہ بورڈ کے نمبر اور انٹرفیس سے ملایا جائے۔
لیبل، کوڈ اور ریویژن مکمل طور پر ریکارڈ کریں
صحیح پارٹ نمبر سورسنگ کا سب سے مضبوط حوالہ ہے۔ صرف بڑے حروف میں درج بورڈ نام، مثلاً “CPU”، “DRV” یا “COMM”، کافی نہیں ہوتا۔ ایک ہی بنیادی نمبر کے بعد آنے والا لاحقہ، ہارڈویئر ریویژن یا سافٹ ویئر لیبل مطابقت پر اثر ڈال سکتا ہے۔
کیا ریکارڈ کرنا چاہیے؟

ہر بورڈ یا کمپوننٹ کے لیے درج ذیل لکھیں یا تصویر میں واضح رکھیں:
- مین پارٹ نمبر
- پروڈکٹ یا اسمبلی کوڈ
- ریویژن، مثلاً
Rev A،Rev Bیا اسی نوعیت کی شناخت - سیریل نمبر، اگر ٹریس ایبلٹی کے لیے درکار ہو
- مینوفیکچرنگ یا تاریخ کوڈ، اگر درج ہو
- وولٹیج اور کرنٹ ریٹنگ
- کنیکٹر کے نام، مثلاً
CN1،J1یاX2 - بورڈ کے دونوں اطراف کے لیبل
- پلگ، ڈِپ سوئچ یا جمپر کی حالت
- سافٹ ویئر یا فرم ویئر کی شناخت، اگر الگ لیبل پر درج ہو
تصویر لیتے وقت چمک، سایہ یا دھندلا پن بارکوڈ اور چھوٹے ریویژن کوڈ چھپا سکتا ہے۔ قریب سے ایک تصویر اور پورے بورڈ کی ایک تصویر لینا بہتر ہے۔ اگر پارٹ کنٹرولر کے اندر لگا ہے تو کیبل کنکشن کی ترتیب بھی نمایاں ہونی چاہیے، مگر کنیکٹر اتارنے سے پہلے ان کی حالت کا ریکارڈ بنائیں۔
ریویژن بدلنے کا مطلب ہمیشہ اپ گریڈ نہیں
نیا ریویژن لازماً پرانے بورڈ کا براہ راست متبادل نہیں ہوتا۔ کسی ریویژن میں ہارڈویئر تبدیلی، مختلف فرم ویئر، نیا کنیکٹر لے آؤٹ، یا اضافی کنفیگریشن شرط موجود ہو سکتی ہے۔ متبادل نمبر قبول کرنے سے پہلے یہ تصدیق کریں کہ اسے اسی کنٹرولر، اسی سافٹ ویئر اور اسی لفٹ کنفیگریشن کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
“Same function” یا “looks similar” جیسے الفاظ تکنیکی منظوری نہیں ہیں۔ فیصلہ قابلِ شناخت نمبر اور دستاویزی مطابقت کی بنیاد پر کریں۔
وولٹیج، کنیکٹر اور پروٹوکول ضرور چیک کریں
برانڈ اور پارٹ نمبر کے بعد برقی اور کمیونیکیشن مطابقت سب سے اہم مرحلہ ہے۔ غلط وولٹیج، غیر موزوں کنیکٹر یا مختلف پروٹوکول کی وجہ سے پارٹ کام نہ کرنے، فالٹ آنے، یا برقی نقصان کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
وولٹیج اور پاور کی جانچ
یہ معلومات صرف لیبل سے اخذ کرنے کے بجائے موجودہ سسٹم میں تصدیق کریں:
- بورڈ کی مطلوبہ ان پٹ سپلائی
- AC یا DC نوعیت
- نامیاتی وولٹیج اور قابلِ قبول حد، اگر دستیاب ہو
- آؤٹ پٹ وولٹیج اور لوڈ کی ضرورت
- فیوز کی قسم اور ریٹنگ
- پولیریٹی اور گراؤنڈنگ
ایک جیسا فزیکل کنیکٹر مختلف وولٹیج لے جا سکتا ہے۔ اسی لیے “پلگ فٹ ہو رہا ہے” کو مطابقت نہ سمجھیں۔ پاور بورڈ کے لیے خاص طور پر ان پٹ، آؤٹ پٹ اور کنیکٹر پن آؤٹ کی تصدیق ضروری ہے۔ متعلقہ Sigma پرزے کا جائزہ لیتے وقت [Sigma لفٹ پاور بورڈ](/products/power-board-sigma-elevator-parts-lift-accessories-2/) کو بھی اصل نمبر اور برقی خصوصیات کے ساتھ ملائیں۔
کنیکٹر اور پن آؤٹ
کنیکٹر کی جانچ میں صرف پنوں کی تعداد نہیں، بلکہ ان کی ترتیب اور کام بھی دیکھیں:
- کنیکٹر کی شکل، کلید بندی اور لاکنگ میکانزم
- پنوں کی تعداد
- پن آؤٹ یا ہر پن کا سگنل
- وائر ہارنس کی ترتیب
- شیلڈڈ کیبل یا گراؤنڈ پن کی ضرورت
- فلیکس کیبل کی سمت اور پچ
کبھی کبھی ایک ہی قسم کے سفید یا سیاہ ملٹی پن کنیکٹر مختلف سگنلز کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ غلط جوڑنے سے مواصلاتی خرابی، سینسر فالٹ یا بورڈ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
کمیونیکیشن پروٹوکول
کار، لینڈنگ، ڈور اور مین کنٹرول کے درمیان رابطہ عموماً مخصوص بس یا سگنل منطق پر ہوتا ہے۔ مختلف سسٹمز میں ڈیٹا اسپیڈ، ایڈریسنگ، ٹرمینیشن اور پروٹوکول کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے۔
یہ ضرور پوچھیں:
- موجودہ بورڈ کس کمیونیکیشن بس پر کام کرتا ہے؟
- کیا متبادل بورڈ اسی کنٹرولر فیملی کے لیے ہے؟
- کیا اسے سافٹ ویئر سیٹ اپ، ایڈریسنگ یا کمیشننگ درکار ہے؟
- کیا لفٹ کی گروپ کنفیگریشن اس بورڈ پر انحصار کرتی ہے؟
- کیا ڈسپلے، کار آپریٹنگ پینل یا لینڈنگ ڈیوائسز کے لیے مخصوص پروگرامنگ چاہیے؟
کسی غیر تصدیق شدہ بورڈ کو لگا کر آزمائش کرنا قابلِ اعتماد تشخیصی طریقہ نہیں۔ لفٹ کے سیفٹی اور کنٹرول سسٹم میں تنصیب تربیت یافتہ ٹیکنیشن کے ذریعے، متعلقہ فنی دستاویزات اور محفوظ طریقہ کار کے تحت ہونی چاہیے۔
Sigma ڈرائیو اور کمیونیکیشن بورڈز کی سورسنگ
Sigma ڈرائیو اور کمیونیکیشن بورڈ خریدتے وقت “drive board” یا “communication board” کے عمومی نام سے آگے بڑھنا ضروری ہے۔ یہ بورڈ عموماً لفٹ کی حرکت، سگنل رابطے، کار آپریشن یا کنٹرولر کے باہمی رابطے میں کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے غلط انتخاب کا اثر ایک جزو تک محدود نہیں رہتا۔
ڈرائیو سے متعلق بورڈ کے لیے
ڈرائیو سے متعلق پارٹ کی سورسنگ میں یہ چیزیں ملائیں:
- ڈرائیو یونٹ اور اس کا ماڈل
- موجودہ بورڈ کا مکمل نمبر اور ریویژن
- موٹر کی قسم اور ڈیٹا پلیٹ
- انکوڈر یا فیڈ بیک کنکشن
- سپلائی وولٹیج
- کنٹرول سگنلز اور انٹرلاک
- بورڈ پر ظاہر شدہ فالٹ یا LED حالت، اگر موجود ہو
صرف یہ جاننا کہ لفٹ VVVF ڈرائیو استعمال کرتی ہے، کافی نہیں۔ مختلف ڈرائیوز کی کنٹرول منطق، انکوڈر انٹرفیس اور پیرامیٹر سیٹنگ الگ ہو سکتی ہے۔
کمیونیکیشن بورڈ کے لیے
کمیونیکیشن بورڈ کے معاملے میں اصل کنٹرولر، کار یا لینڈنگ ڈیوائسز کی شناخت مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔ غلط بورڈ کی علامات میں کار پینل کا جواب نہ دینا، ڈسپلے آف ہونا، فلور کالز کا متاثر ہونا، بے قاعدہ کمیونیکیشن فالٹ یا صرف کچھ فلورز کا کام نہ کرنا شامل ہو سکتا ہے، مگر یہی علامات وائرنگ اور پاور مسئلے سے بھی آ سکتی ہیں۔
Sigma ڈرائیور سے متعلق کمپوننٹ کی تلاش میں [Sigma لفٹ ڈرائیور بورڈ](/products/elevator-driver-board-sigma-elevator-parts-lift-accessories/) کو صرف اسی وقت منتخب کریں جب اس کا پارٹ نمبر، فنکشن، وولٹیج اور کنیکٹر موجودہ اسمبلی سے مطابقت رکھتے ہوں۔
KONE کے مخصوص کمپوننٹس کی سورسنگ
KONE-specific پارٹس کی سورسنگ میں KONE برانڈ نام کا درست ہونا اہم ہے، لیکن اکیلا کافی نہیں۔ مختلف کنٹرول جنریشنز، لفٹ ماڈلز، کار فٹنگز، ڈور آپریٹرز اور کمیونیکیشن سسٹمز کے درمیان فرق موجود ہو سکتا ہے۔
KONE کمپوننٹ شناخت کے لیے یہ ترتیب اختیار کریں:
- کنٹرولر اور لفٹ کی شناختی پلیٹ دیکھیں۔
- اصل پارٹ پر موجود مکمل نمبر ریکارڈ کریں۔
- معلوم کریں کہ پارٹ کار، لینڈنگ، مشین روم، ڈور یا ڈرائیو سے متعلق ہے۔
- وولٹیج، کنیکٹر اور کیبل ترتیب کو ملائیں۔
- ریویژن یا پروگرامنگ کی شرط کی تصدیق کریں۔
- متبادل نمبر کو صرف دستاویزی مطابقت ملنے پر قبول کریں۔
خاص طور پر کار آپریٹنگ پینل، ڈسپلے، ڈور الیکٹرانکس، مین کنٹرول بورڈ اور ڈرائیو کے اجزا میں ظاہری مماثلت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ بعض اجزا مخصوص ڈیزائن، سافٹ ویئر یا کنفیگریشن کے تابع ہوتے ہیں۔
اگر اصل پارٹ نمبر پڑھا نہ جا سکے تو خریدار کو یہ بات واضح طور پر بتانی چاہیے کہ شناخت تصویر اور کنٹرولر تفصیل کی بنیاد پر ابتدائی ہے، حتمی نہیں۔ ایسی صورت میں سائٹ پر تکنیکی تصدیق، وائرنگ ڈایاگرام یا مستند سروس دستاویز کا استعمال زیادہ موزوں رہتا ہے۔
حتمی مطابقت چیک لسٹ
آرڈر جاری کرنے یا پارٹ نصب کرنے سے پہلے یہ چیک لسٹ مکمل کریں:
- [ ] لفٹ کا برانڈ اور کنٹرولر فیملی شناخت ہو چکی ہے۔
- [ ] پرانے پارٹ کا مکمل پارٹ نمبر ریکارڈ ہو چکا ہے۔
- [ ] ہارڈویئر ریویژن اور، جہاں لاگو ہو، سافٹ ویئر شناخت ملائی جا چکی ہے۔
- [ ] بورڈ کا فنکشن اور تنصیب کی جگہ واضح ہے۔
- [ ] ان پٹ اور آؤٹ پٹ وولٹیج کی تصدیق ہو چکی ہے۔
- [ ] کنیکٹر کی شکل، پن کاؤنٹ، پن آؤٹ اور ہارنس ترتیب ملائی جا چکی ہے۔
- [ ] کمیونیکیشن پروٹوکول اور کنٹرولر مطابقت چیک ہو چکی ہے۔
- [ ] ڈور، کار، لینڈنگ یا ڈرائیو کی مخصوص کنفیگریشن کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
- [ ] موجودہ خرابی کی بنیادی وجہ کا معائنہ ہو چکا ہے۔
- [ ] تنصیب، پیرامیٹر سیٹنگ یا کمیشننگ کی ضرورت واضح ہے۔
- [ ] پارٹ وصول ہونے پر لیبل اور ریویژن کو آرڈر ریکارڈ سے دوبارہ ملایا جائے گا۔
عام غلطیاں جن سے بچنا چاہیے
- KONE اور Sigma کو صرف نام کی مماثلت کی بنیاد پر باہم قابلِ تبادلہ سمجھنا۔
- پارٹ نمبر کے آخری حروف یا ریویژن کو نظر انداز کرنا۔
- صرف بورڈ کی سامنے والی تصویر سے آرڈر دینا۔
- کنیکٹر کو دیکھ کر وولٹیج یا پن آؤٹ فرض کر لینا۔
- فالٹ کی اصل وجہ چیک کیے بغیر بورڈ تبدیل کر دینا۔
- تنصیب کے بعد درکار پروگرامنگ یا ایڈریسنگ کو نظر انداز کرنا۔
- اصل پارٹ کو محفوظ کیے بغیر اسے ضائع کر دینا، جس سے بعد کی شناخت مشکل ہو جائے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا KONE اور Sigma کے بورڈ ایک دوسرے کی جگہ لگ سکتے ہیں؟
بعض مخصوص حالات میں منظور شدہ متبادل موجود ہو سکتا ہے، مگر اسے عمومی اصول نہیں سمجھنا چاہیے۔ مکمل پارٹ نمبر، ریویژن، وولٹیج، کنیکٹر، پروٹوکول اور کنٹرولر مطابقت کی تصدیق کے بغیر ایسا بورڈ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
اگر پارٹ نمبر مٹ چکا ہو تو کیا کیا جائے؟
بورڈ کے دونوں رخ، کنیکٹرز، کنٹرولر لیبل، کیبل ہارنس اور خرابی کی تفصیل ریکارڈ کریں۔ پھر سسٹم کی فنی دستاویز یا تجربہ کار لفٹ ٹیکنیشن کے ذریعے شناخت کی تصدیق کریں۔ ظاہری شکل کی بنیاد پر آرڈر کو حتمی نہ بنائیں۔
کیا نیا ریویژن پرانے بورڈ کے لیے ہمیشہ موزوں ہوتا ہے؟
نہیں۔ نیا ریویژن بعض اوقات پرانے سسٹم کے ساتھ درست کام کرتا ہے، مگر اس کے لیے پروگرامنگ، وائرنگ تبدیلی یا مخصوص سافٹ ویئر درکار ہو سکتا ہے۔ قبول کرنے سے پہلے اس کی مطابقت واضح کریں۔
متبادل پارٹ ملنے پر وصولی کے وقت کیا چیک کریں؟
پارٹ نمبر، ریویژن، وولٹیج لیبل، کنیکٹر لے آؤٹ اور بورڈ کی جسمانی حالت کو آرڈر اور پرانے پارٹ سے ملائیں۔ تنصیب سے پہلے یہ بھی طے کریں کہ کیا سیٹنگ، ایڈریسنگ یا کنٹرولر کنفیگریشن ضروری ہے۔
درست KONE Sigma سورسنگ کا خلاصہ یہ ہے کہ پارٹ کو صرف نام سے نہیں، بلکہ اس کے سسٹم کے اندر کردار اور مکمل تکنیکی شناخت سے منتخب کیا جائے۔ Kelevator کثیر برانڈ لفٹ اسپیئر پارٹس کے لیے B2B درآمد کنندگان، ڈسٹری بیوٹرز، مینٹیننس کنٹریکٹرز اور OEM خریداروں کو سپورٹ کرتا ہے؛ کسی بھی سورسنگ درخواست کے ساتھ پارٹ لیبل، کنٹرولر تفصیل اور واضح تصاویر شامل کرنے سے درست جانچ ممکن ہوتی ہے۔

